کیا آپ کو معلوم ہے کہ کلغا (Cockscomb) پودےکے سب حصےپھول،پتے اور شا خیں کھاے جاتے ہیں؟ جی ہاں، ایشیا اور افریقہ کے کئی ملکوں میں اس پودے کے سب حصے خوراک کا اہم جزو ہیں۔
چولای اور باتھوکی طرح مخملیں پھولوں والا کلغا پودوں کے امرانتھس گروپ سے تعلق رکھتا ہے۔ ہمارے ہاں کلغا کو پھول کے طور پر اگایا جاتا ہے جبکہ یہ ایک سبزی ہے۔ اس کے پتوں میں پروٹین، وٹامن اے اورسی، آیرن، کیلشیئم اور فاسفورس پاے جاتے ہیں۔ اس کا ذایقہ پالک سے ملتا جلتا ہے۔
کلغا کو عام طور پر تین گروپوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔
Celosia Argentea var. Cristata, Celosia Argentea var. Plumosa, Celosia Argentea var. Spicata
ان تینوں اقسام کو سبزی کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔
وسطی اور مغربی افریقہ میں اس کی بڑے پیمانے پر بطور سبزی کاشت کی جاتی ہے۔نایجیریا، کانگواوربنین میں اس کے نوخیز پتے، ڈنٹھل اور پھول خوراک کا اہم حصہ ہیں۔ اس کے علاوہ انڈونیشیا، سری لنکا، بھارت اور یمن میں اسےپالک کی طرح استعمال کیا جاتا ہے۔
کشمیر میں تو اس کو طرح طرح کے کھانوں میں استعمال کیا جاتاہے۔روغن جوش، گُشتابے، رِستا، لہبی کباب اور مرچی قورمہ جیسے کھانوں کی تیاری میں اس کے پھولوں کا رنگ ایک لازمی جزو ہے۔اس کے پتوں کا سالن بھی تیار کیا جاتا ہے۔
اس کے پھولوں کی نہایت لذیذ چاےبھی تیار کی جاتی ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ یہ چاے بینای، جگر اور ہڈیوں کے لیے بہت فایدہ بخش ہے۔ اس کے پھول کو مقامی زبان میں مَوَل کہا جاتا ہے۔ اس کے رنگ کو نیچرل کلرنگ ایجنٹ کے طور بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
پکانے کے لیے اس کے پتوں کو پودے پر پھول کھلنے سے پہلے تؤڑ لیا جاتا ہے۔ بعض علاقوں میں چھوٹے چھوٹے پھول بھی نرم ڈنٹھلوں اور پتوں کے ساتھ پکا لیے جاتے ہیں۔پھول کھلنے کے بعد اس کے پتے کڑوے ہو جاتے ہیں۔
اس کو اگانے کے لیے خاص محنت کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔موسم سرما کا یہ پوداایک بار بیج بونے کے بعد اگلے سال یہ خودبخود اگ آتا ہے۔ اس کے لیے بہترین درجہ حرارت 20 سے 25 سنٹی گریڈ ہے لیکن یہ پینتالیس چھیالیس درجہ سنٹی گریڈ پر بھی خوب پھلتا پھولتا ہے۔یہ نمدار مٹی کو پسند کرتا ہے لیکن زیادہ پانی سے اس کی جڑیں گل سڑ جاتی ہیں۔
کلغا نہ صرف آپ کے باغ کے حسن میں اضافہ کرتا ہے اور آپ کے باورچی خانے کے لیے سبزی فراہم کرتا ہے بلکہ شہد کی مکھیوں اور تتلیوں جیسے امدادی اور دوست کیڑوں کے لیے مقناطیسی کشش بھی رکھتا ہے۔
